خاموشی کی آواز

” ایک بہرے لڑکے کے بڑے خواب اور کامیابی کی کہانی”

بعض لوگ شور میں پہچانے جاتے ہیں، اور بعض اپنی خاموشی سے۔
یہ کہانی ایسے ہی ایک نوجوان کی ہے، جس کے کان دنیا کی آوازیں نہ سن سکے، مگر اس کے دل نے ایک ایسا خواب سن لیا تھا جس نے اس کی پوری زندگی بدل دی۔

اس لڑکے کا نام ریحان تھا۔

ریحان بچپن سے ہی سماعت سے محروم تھا۔ جب محلے کے بچے گلی میں شور مچاتے، ایک دوسرے کو آوازیں دیتے، ہنستے، لڑتے، پھر مان جاتے، تو ریحان بس ان کے چہروں کو دیکھتا رہتا۔ اس کے لیے دنیا ہمیشہ سے ایک خاموش فلم کی طرح تھی، جس میں سب کچھ حرکت کرتا تھا، مگر کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔

لوگ اسے دیکھ کر اکثر دو طرح کے چہرے بناتے تھے۔
ایک وہ جن میں ترس ہوتا تھا۔
اور دوسرے وہ جن میں شک ہوتا تھا۔

ترس والے چہرے کہتے تھے، “بیچارا…”
شک والے چہرے پوچھتے تھے، “یہ آگے کیا کرے گا؟”

ریحان کسی کی بات سن نہیں سکتا تھا، مگر وہ لوگوں کی آنکھیں پڑھنا جانتا تھا۔ اسے اندازہ ہو جاتا تھا کہ کون اسے کمزور سمجھ رہا ہے، کون اسے بوجھ، اور کون اسے صرف ایک افسوس ناک کہانی۔

مگر ریحان خود کو ان میں سے کچھ بھی نہیں سمجھتا تھا۔

اس کے اندر ایک عجیب سی ضد تھی۔ ایک خاموش مگر مضبوط ضد۔
وہ چاہتا تھا کہ ایک دن لوگ اس پر ترس نہ کھائیں، بلکہ اس کا نام عزت سے لیں۔
وہ چاہتا تھا کہ ایک دن معاشرے میں اس کی پہچان اس کی محرومی نہ ہو، اس کی کامیابی ہو۔

ایک چھوٹا سا گھر، ایک بہت بڑا خواب

ریحان کا گھر شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ سی گلی میں تھا۔ دو چھوٹے کمرے، جن کی دیواروں پر نمی کے نشان تھے، چھت پر پرانا پنکھا تھا، اور صحن میں ایک ٹوٹی ہوئی کرسی۔ اس کے والد جوتے مرمت کرتے تھے۔ صبح سے شام تک جھکے رہتے، مگر پھر بھی گھر کے خرچے سیدھے نہ ہوتے۔ اس کی ماں گھروں میں کپڑے سی کر کچھ پیسے کما لیتی تھیں۔

یہ وہ گھر تھا جہاں خواہشیں اکثر ضرورتوں کے نیچے دب جاتی تھیں۔

مگر ریحان کے ساتھ ایک بات مختلف تھی۔

وہ بچپن ہی سے تصویریں بناتا تھا۔
کاغذ ملے تو کاغذ پر، نہ ملے تو پرانے ڈبوں پر، اور وہ بھی نہ ملے تو اخبار کے خالی کناروں پر۔
اس کی انگلیوں میں جیسے خاموشی بولتی تھی۔
وہ چہروں کے تاثرات بناتا، آنکھوں کی نمی بناتا، دھوپ بناتا، تھکن بناتا، امید بناتا۔

اس کی ماں جب اسے جھک کر رنگ بھرتے دیکھتیں تو دل ہی دل میں دعا کرتیں۔ انہیں معلوم تھا کہ ان کا بیٹا عام نہیں ہے۔ وہ بس یہ نہیں جانتی تھیں کہ اس کی منزل کتنی بڑی ہوگی۔

وہ تکلیف جو روز تھوڑا تھوڑا توڑتی ہے

اسکول ریحان کے لیے آسان جگہ نہیں تھا۔

استاد پڑھاتے جاتے، بچے جواب دیتے جاتے، اور ریحان اکثر پیچھے رہ جاتا۔ اگر استاد نے منہ دوسری طرف کر لیا تو ریحان ہونٹ پڑھ ہی نہ پاتا۔ اگر پوری کلاس ہنس پڑتی تو وہ صرف اتنا جانتا کہ کوئی بات ہوئی ہے، مگر کیا ہوئی ہے، یہ نہیں۔

کئی بار کچھ بچے اس کی نقل اتارتے۔
کئی بار کوئی جان بوجھ کر اس سے بات کرتا اور پھر اس کے جواب نہ دے پانے پر ہنس دیتا۔
کئی بار وہ گھر واپس آتے ہوئے ایک ہی سوال سوچتا:

“کیا واقعی میں دوسروں سے کم ہوں؟”

یہ سوال اسے اندر سے زخمی کرتا تھا۔

ایک شام وہ اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا۔ سامنے آئینہ رکھا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو بہت دیر تک دیکھا۔ پھر میز پر پڑی کاپی کھولی اور بڑے بڑےحروف میں ایک جملہ لکھا

میں کم نہیں ہوں، میرا راستہ بس مختلف ہے۔”

اس دن کے بعد ریحان کے اندر کچھ بدل گیا۔

خاموش محنت کی شروعات

اس نے اپنے آپ کو قسمت کے حوالے کرنا چھوڑ دیا۔

وہ صبح جلدی اٹھنے لگا۔ ہونٹ پڑھنے کی مشق کرتا۔ تصویروں کے ذریعے چیزیں یاد کرتا۔ لکھ لکھ کر الفاظ کو سمجھتا۔ اشاروں کی زبان بہتر کرتا۔ اور سب سے بڑھ کر، مصوری میں اپنے دل کی ساری باتیں اتارنے لگا۔

جہاں دوسرے لوگ آواز سے جذبات سمجھتے تھے، ریحان چہروں سے سمجھتا تھا۔
جہاں دوسرے لوگ لفظ سنتے تھے، وہ آنکھوں میں چھپی کہانیاں دیکھتا تھا۔

شاید یہی وجہ تھی کہ اس کی بنائی ہوئی تصویروں میں عجیب سی جان ہوتی تھی۔

لیکن محنت سے پہلے بھی ایک دیوار تھی، اور محنت کے بعد بھی۔

اچھے رنگ خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ برش پرانے ہو چکے تھے۔ کبھی ایک ہی کاغذ کے دونوں رخ استعمال کرتا، کبھی خشک ہوتے رنگوں میں پانی ملا کر چلانے کی کوشش کرتا۔ کئی بار اس کی انگلیاں رنگ سے زیادہ بے بسی سے بھری ہوتی تھیں۔

مگر اس نے بہانہ نہیں بنایا۔

وہ جانتا تھا کہ جو لوگ کم وسائل کے باوجود چلتے رہتے ہیں، ان کے قدم آہستہ سہی، مگر رکتے نہیں۔

ایک اعلان جس نے دل ہلا دیا

ایک دن اسکول کے نوٹس بورڈ پر ایک پوسٹر لگا دیکھا۔ شہر بھر کے نوجوان فنکاروں کے لیے بڑا آرٹ مقابلہ ہونے والا تھا۔ جج بھی نامور تھے، اورا جیتنے والے کو نہ صرف انعام ملنا تھا بلکہ اس کی تصویریں شہر کی ایک بڑی نمائش میں رکھی جانی تھیں۔

ریحان نے پوسٹر دیکھا، پھر کافی دیر تک وہیں کھڑا رہا۔

اس کے دل میں جیسے ایک چنگاری سی اٹھی۔

یہ صرف مقابلہ نہیں تھا۔
یہ موقع تھا۔
شاید وہی موقع، جس کا اسے برسوں سے انتظار تھا۔

وہ گھر پہنچا اور ماں کے سامنے کاغذ پر جلدی جلدی لکھنے لگا کہ اسے اس مقابلے میں حصہ لینا ہے۔ ماں نے لکھا ہوا پڑھا، پھر اسے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں خوشی بھی تھی اور فکر بھی۔

فیس دینی تھی۔ سامان لینا تھا۔ آنے جانے کا خرچ بھی تھا۔
گھر کی حالت ایسی نہیں تھی کہ یہ سب آسانی سے ہو جاتا۔

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ماں اندر گئیں اور اپنی پرانی صندوقچی لے آئیں۔ اس میں کچھ سنبھال کر رکھی ہوئی چیزیں تھیں۔ ان میں ایک جوڑی چوڑیاں بھی تھیں، جو وہ بہت کم نکالتی تھیں۔

انہوں نے ریحان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیں۔

ریحان سمجھ گیا۔

اس کی آنکھیں بھر آئیں۔
…اس نے فوراً سر ہلایا، جیسے کہہ رہا ہو: “نہیں، یہ نہیں”

مگر ماں نے اس کا ہاتھ تھام کر آہستہ سے دبا دیا۔
بعض دفعہ ماں بولتی نہیں، مگر ان کا دل ایک پوری کتاب کی طرح سمجھ آ جاتا ہے۔

وہ تصویر جس میں اس کی پوری زندگی اتر آئی

مقابلے سے ایک رات پہلے ریحان دیر تک جاگتا رہا۔

سامنے خالی کینوس رکھا تھا، مگر اس کے دل میں برسوں کی خاموش چیخیں، ٹھہرا ہوا درد، دبی ہوئی خواہشیں، اور ٹوٹنے نہ دینے والی ہمت ایک ساتھ جمع تھیں۔

اس نے برش اٹھایا۔

پہلے ہلکی لکیریں کھینچیں۔
پھر ایک چہرہ بنایا۔
پھر اس چہرے کے گرد ایک ہجوم۔
ہجوم کے سب لوگ بول رہے تھے، مگر درمیان میں کھڑا وہ لڑکا خاموش تھا۔
اس کی آنکھوں میں عجیب روشنی تھی۔
ایسا لگتا تھا جیسے دنیا کچھ بھی کہے، وہ اپنی اندر کی پکار سن رہا ہو۔

تصویر کے اوپر اس نے نام لکھا

“خاموشی کی آواز”

جب تصویر مکمل ہوئی تو ریحان بہت دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے پہلی بار اس نے اپنی پوری زندگی ایک کینوس پر رکھ دی ہو۔

مقابلے کا دن

ہال بڑا تھا، روشن بھی، اور لوگوں سے بھرا ہوا بھی۔ ہر طرف اچھے کپڑے پہنے نوجوان، ان کے خاندان، مہنگا سامان، بڑے بڑے نام۔

ریحان اپنے سادہ لباس اور احتیاط سے لپیٹی ہوئی تصویر کے ساتھ ایک طرف کھڑا تھا۔

کچھ لوگوں نے ایک سرسری نظر اس پر ڈالی، پھر آگے بڑھ گئے۔
کچھ نے اس کی تصویر دیکھی، پھر اسے دیکھا، جیسے سوچ رہے ہوں کہ یہ بھی مقابلے میں آیا ہے؟

ریحان کے لیے یہ سب نیا نہیں تھا۔
لوگوں کے اندازے، ان کی جلدی رائے، ان کی خاموش بے اعتنائی — یہ سب وہ پہلے بھی کئی بار جھیل چکا تھا۔

مگر اس دن اس کے اندر عجیب سکون تھا۔

اس نے اپنا کام کر دیا تھا۔
اب نتیجہ اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔

ایک لمحہ جو ہمیشہ کے لیے یاد رہ گیا

جب نتائج کے اعلان کا وقت آیا تو پورا ہال متوجہ ہو گیا۔ لوگ اسٹیج کی طرف دیکھ رہے تھے۔ نام پکارے جا رہے تھے۔ ریحان کچھ سن نہیں سکتا تھا، اس لیے وہ صرف چہروں کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔

پھر اچانک اس نے دیکھا کہ سامنے بیٹھے ایک شخص نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
پھر ایک لڑکی نے ہاتھ اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کیا۔
پھر کئی لوگ مڑ کر اسے دیکھنے لگے۔

ریحان کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔

اس نے اسٹیج کے ساتھ لگی اسکرین کی طرف دیکھا۔

وہاں صاف لکھا تھا

“پہلا انعام “ریحان

ایک لمحے کے لیے اسے یقین ہی نہ آیا۔

جیسے وقت رک گیا ہو۔

پھر اس نے اپنی ماں کو دیکھا۔
وہ رو رہی تھیں۔
اس کے والد، جن کے ہاتھ ہمیشہ محنت کی گرد سے بھرے رہتے تھے، آج پہلی بار اتنے فخر سے بھرے دکھائی دے رہے تھے کہ ریحان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

وہ اسٹیج کی طرف بڑھا۔

ہال میں لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔
وہ تالیاں سن نہیں سکتا تھا، مگر اس روز پہلی بار اسے لگا کہ عزت کی بھی ایک آواز ہوتی ہے، اور وہ دل تک پہنچتی ہے۔

مشہور ہونے سے پہلے انسان بنتا ہے

اس جیت کے بعد ریحان کی زندگی بدلنے لگی، مگر ایک ہی دن میں نہیں۔

یہاں اس کہانی کی اصل خوبصورتی شروع ہوتی ہے۔

اسے کچھ لوگوں نے سراہا، کچھ نے اسے محض ایک متا ثر کن آرٹ سمجھا، کچھ نے وقتی تعریف کی اور آگے بڑھ گئے۔ مگر ریحان نے اپنے کام کو رکنے نہیں دیا۔ وہ مسلسل پینٹنگ کرتا رہا۔ سیکھتا رہا۔ بہتر ہوتا رہا۔ گرتا، پھر سنبھلتا رہا۔

چند برسوں بعد اس کی تصویروں کی نمائشیں ہونے لگیں۔
اس کا نام آرٹ کی دنیا میں پہچانا جانے لگا۔
لوگ اس کی پینٹنگز خریدنے لگے۔
اخبارات میں اس پر مضامین چھپنے لگے۔
سوشل حلقوں میں اسے ایک مثال کے طور پر یاد کیا جانے لگا۔

مگر ریحان نے اصل بڑائی تب دکھائی جب اس نے اپنی کامیابی صرف اپنے لیے نہ رکھی۔

اس نے سماعت سے محروم بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا تربیتی مرکز قائم کیا، جہاں وہ انہیں مصوری، خود اعتمادی اور اظہار کے نئے راستے سکھاتا تھا۔
وہ انہیں یہ احساس دلاتا تھا کہ محرومی زندگی کا اختتام نہیں، بعض اوقات یہ ایک نیا دروازہ بھی ہوتی ہے۔

وہ جملہ جو دلوں میں اتر گیا

ایک بڑی تقریب میں، جہاں شہر کے اہم لوگ موجود تھے، ریحان کو سماجی خدمات اور فن کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے پر اعزاز دیا گیا۔

اسٹیج پر پہنچ کر اس نے مائیک کی طرف نہیں دیکھا۔
اس نے حاضرین کی طرف دیکھا۔
پھر اشاروں میں ایک جملہ کہا، اور ساتھ اسکرین پر اس کا ترجمہ ظاہر ہوا:

“میں دنیا کی آوازیں نہیں سن سکا، لیکن میں نے اپنے خواب کی آواز کبھی کھونے نہیں دی۔”

ہال خاموش ہو گیا۔

پھر لوگ کھڑے ہو گئے۔

اس دن ریحان صرف ایک مشہور مصور نہیں تھا۔
وہ ایک پیغام بن چکا تھا۔
ایک زندہ جواب، ان سب لوگوں کے لیے جو کبھی خود کو اپنی کمیوں کی وجہ سے چھوٹا سمجھ بیٹھتے ہیں۔

حاصلِ کلام

کامیابی ہمیشہ ان لوگوں کے حصے میں نہیں آتی جن کے پاس سب کچھ ہوتا ہے۔
اکثر کامیابی ان لوگوں کو ڈھونڈ لیتی ہے جو محرومی کے باوجود ہار نہیں مانتے۔

ریحان کی کہانی یہی سکھاتی ہے کہ خاموشی، کمزوری نہیں ہوتی۔
اصل کمزوری تو ہمت چھوڑ دینا ہے۔
اگر انسان اپنے دکھ کو طاقت میں بدل لے، تو دنیا ایک دن اسی کے نام سے روشنی مانگتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top