دنیا میں ہر بچے کو ایڈونچر پسند ہوتا ہے، لیکن بارہ سالہ علی اور اس کے چھوٹے بھائی عمر کے لیے وہ جمعرات کی رات کوئی عام رات نہیں تھی۔ ممی اور پاپا پاس والے گھر میں ایک تقریب میں گئے ہوئے تھے اور دونوں بھائیوں کو سخت تاکید کر گئے تھے کہ نو بجے تک سو جانا
لیکن جیسے ہی گھڑی نے نو بجائے، گھر میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔
کچن کا پراسرار راز
علی اور عمر ڈرائنگ روم میں بیٹھے کارٹون دیکھ رہے تھے کہ اچانک کچن سے ایک عجیب سی آواز آئی:کِٹر مِٹر… کِٹر مِٹر… کَھٹ
علی نے شلاک ہومز کی طرح اپنی آنکھیں چھوٹی کیں اور بولا، “ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ میں بڑا بھائی ہوں، میں دیکھتا ہوں۔” لیکن سچ تو یہ تھا کہ علی کا اپنا دل بھی دھک دھک کر رہا تھا۔
وہ دونوں آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے کچن کی طرف گئے۔ کچن کے دروازے پر پہنچ کر علی نے لائٹ آن کرنے کے لیے بٹن دبایا، لیکن لائٹ نہ جلی! ایسا لگا جیسے ہولناک کہانیوں کی طرح بجلی بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئی ہو۔
“!کچن میں گھپ اندھیرا تھا اور وہی پراسرار آواز دوبارہ آئی: “چپڑ چپڑ… کِٹر مِٹر
مزاحیہ مقابلہ اور بھوت کا تعاقب
عمر نے ڈر کے مارے کچن کے پائپ کو ہی بھوت سمجھ کر پکڑ لیا اور زور سے چلایا، ” بھوت جی! مجھے مت کھانا، میں بہت چھوٹا ہوں،
“!علی بھائی کو کھا لو
“!علی نے عمر کو گھورا، “تم کیسے بھائی ہو؟ اپنے ہی بھائی کو بھوت کے آگے پیش کر رہے ہو
تبھی انہوں نے دیکھا کہ کچن کے کاؤنٹر پر رکھی ہوئی پاپ کارن کی پتیلی خود بخود ہل رہی تھی۔ جی ہاں! لوہے کی وزنی پتیلی بغیر کسی ہاتھ کے ہیر پھیر کر رہی تھی اور اس کے اندر سے پاپ کارن ٹوٹنے اور چبانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
“بھوت پاپ کارن کھا رہا ہے!” علی نے حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ کہا۔
ہمیں اس بھوت سے مقابلہ کرنا پڑے گا،عمر نے ہمت جمع کرتے ہوئے کہا۔ وہ دوڑے دوڑے گئے اور اپنے ہتھیار لے آئے۔ علی نے ہاتھ میں کپڑے دھونے والا وائپر پکڑ لیا اور عمر نے سر پر کرکٹ کا ہیلمٹ پہن لیا اور ہاتھ میں چمچ اٹھا لیا۔
!”علی نے ڈرامائی انداز میں نعرہ لگایا، “اے پراسرار بھوت! باہر نکل آؤ، ورنہ میں اس وائپر سے تمہاری صفائی کر دوں گا
جواب میں پتیلی مزید زور سے ہلی اور نیچے گر گئی۔ “ٹھاہ!” ایک دم سے کچن میں سناٹا چھا گیا۔ علی اور عمر کی سانسیں رک گئیں۔ دونوں وائپر اور چمچ تانے تیار کھڑے تھے۔
سسپنس کا عروج
پتیلی گرنے کے بعد کاؤنٹر کے نیچے سے ایک سیاہ رنگ کا لمبا سا سایہ نکلا۔ وہ سایہ آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھنے لگا۔
“!عمر نے ڈر کر آنکھیں بند کر لیں اور چمچ ہوا میں گھمانے لگا، “دور رہو بھوت! میرے پاس چمچ ہے
سایہ مزید قریب آیا۔ علی نے موبائل کی فلیش لائٹ آن کی اور روشنی اس سائے پر ڈالی۔ روشنائی پڑتے ہی جو منظر سامنے آیا، اسے دیکھ کر علی اور عمر کے طوطے اڑ گئے
حیران کن اور مزاحیہ ٹوئسٹ
!کچن کے فرش پر کوئی ہولناک بھوت یا چور نہیں تھا… بلکہ پڑوسیوں کی موٹی، کالی بلی “مانو” بیٹھی ہوئی تھی
مانو کے سر پر پاپ کارن کا خالی پیکٹ پھنسا ہوا تھا، جس کی وجہ سے وہ کچن میں ٹکرا رہی تھی اور آوازیں نکال رہی تھی۔ اس کے منہ کے ارد گرد پاپ کارن کے ذرے لگے ہوئے تھے اور وہ بہت بے بسی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو: مجھے اس ڈبے سے باہر نکالو، تم دونوں ہتھیار “کیوں تانے کھڑے ہو؟
!یہ دیکھ کر علی اور عمر کی چیخیں نکل گئیں، لیکن خوف سے نہیں بلکہ ہنسی سے
!”عمر نے اپنا ہیلمٹ اتارا اور پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگا، “علی بھائی! آپ تو وائپر لے کر بلی سے لڑنے چلے تھے
“علی نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا، “اور تم جو مجھے بھوت کے سامنے قربان کر رہے تھے، اس کا کیا؟
علی نے آگے بڑھ کر مانو کے سر سے وہ ڈبہ نکالا۔ آزاد ہوتے ہی مانو نے ایک لمبی “میاؤں” کی، کاؤنٹر پر پڑا آخری پاپ کارن اٹھایا اور کھڑکی سے چھلانگ لگا کر غائب ہو گئی۔
تبھی گھر کی لائٹ بھی واپس آ گئی اور دروازے کی گھنٹی بجی۔ ممی اور پاپا واپس آ چکے تھے۔ ممی نے کچن کی حالت دیکھی تو حیران ہو کر پوچھا، “یہ کچن میں اتنا کھلارا کس نے ڈالا ہے؟ اور عمر نے ہیلمٹ کیوں پہنا ہوا ہے”؟
علی اور عمر نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرا دیے۔ علی بولا، “ممی! ہم تو بس ایک بھوت کو پاپ کارن کھلا رہے تھے!” ممی نے سر پکڑ لیا اور دونوں بھائی کمرے میں جا کر زور زور سے ہنسنے
:اس کہانی سے سبق
ہر عجیب آواز یا اندھیرے کا مطلب بھوت نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ صرف ایک بھوکی بلی بھی ہو سکتی ہے۔


Funnny