پراسرار “ٹوکرے” کا راز اور غائب ہونے والی چپلیں

ایک انوکھا مہم جو

عام طور پر چھٹیاں سکون سے گزرتی ہیں، لیکن اس بار ہمارے محلے “گلشنِ سکون” میں کچھ ایسا ہوا کہ سب کی نیندیں اڑ گئیں۔ اس سب کی شروعات اس وقت ہوئی جب ہمارے محلے کے سب سے سنجیدہ اور غصے والے انکل، یعنی “انکل چٹخارے” کی چمکیلی کالی چپل ان کے صحن سے غائب ہوگئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی، اگلے ہی دن معلوم ہوا کہ باجی صائمہ کا گلابی دوپٹہ اور بلو بھائی کا ایک موزہ (صرف ایک!) بھی غائب ہے۔

ایک شام جب سورج ڈھل رہا تھا اور گلی میں ہلکا اندھیرا چھا رہا تھا، ہم تینوں انکل چٹخارے کے گھر کے پیچھے والی پرانی گلی میں کھڑے تھے۔ اچانک، ایک عجیب سی آواز آئی: “کُھرر… کُھرر… ٹپ”

ہم سب جم گئے۔ علی کا رنگ پیلا پڑ گیا اور زویا نے ڈر کے مارے میرا ہاتھ اتنی زور سے پکڑا کہ مجھے لگا میرا ہاتھ بھی غائب ہونے والی چیزوں کی فہرست میں چلا جائے گا۔ ہم نے دیکھا کہ دیوار کے کونے میں ایک پرانا، بڑا سا لکڑی کا ٹوکرا رکھا ہے جو آہستہ آہستہ ہل رہا تھا۔

“کیا یہ بھوت ہے؟” علی نے سرگوشی کی۔

“بھوت چپلوں کا کیا کرے گا؟ کیا وہ ننگے پاؤں نہیں چلتے؟” زویا نے ڈرتے ڈرتے ایک منطقی سوال کیا۔

ہم دبے پاؤں ٹوکرے کی طرف بڑھے۔ جیسے ہی ہم قریب پہنچے، ٹوکرے کے اندر سے ایک عجیب سی بو آئی۔ ایسی بو جیسے پرانے موزوں اور سڑی ہوئی گوبھی کا مکسچر ہو۔ اچانک ٹوکرا زور سے ہلا اور اس کے اندر سے ایک کالی سی چیز باہر نکلی۔ ہم تینوں “بچاؤ! بھوت!” چلاتے ہوئے الٹے قدموں بھاگے اور جا کر ایک خالی ڈرم کے پیچھے چھپ گئے۔

تھوڑی دیر بعد جب ہماری جان میں جان آئی، تو ہم نے دیکھا کہ وہ “کالی چیز” کوئی بھوت نہیں بلکہ ایک کالا کتا تھا جس کے منہ میں انکل چٹخارے کی دوسری چپل بھی تھی۔

“ارے! یہ تو “  شیلو”   ہے، پڑوس والے گھر کا کتا!” حمزہ نے ہنستے ہوئے کہا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ شیلو وہ چپل لے کر اسی پرانے ٹوکرے کے پیچھے ایک چھوٹی سی سرنگ نما جگہ میں گھس گیا۔ ہمیں لگا کہ شاید اس کے پیچھے کوئی گروہ کام کر رہا ہے۔

ہم نے طے کیا کہ ہم اس سرنگ کے اندر جھانکیں گے۔ علی کو ہم نے “ٹارچ ہولڈر” بنایا، زویا کو “بیک اپ” اور میں خود “چیف انویسٹی گیٹر” بنا۔ ہم رینگتے ہوئے اس جگہ پہنچے جہاں شیلو گیا تھا۔ وہاں پہنچ کر جو منظر ہم نے دیکھا، اس نے ہمارے ہوش اڑا دیے۔

وہاں ایک پرانا اسٹور روم تھا جس کا دروازہ ٹوٹا ہوا تھا۔ اندر کا منظر کسی عجائب گھر سے کم نہ تھا۔ وہاں صرف چپلیں نہیں تھیں، بلکہ پلاسٹک کی بوتلیں، کرکٹ کی گیندیں، چمچ، اور یہاں تک کہ ایک ٹوٹا ہوا ریڈیو بھی پڑا تھا۔ اور ان سب چیزوں کے درمیان بیٹھا تھا… “پراسرار ماسٹر مائنڈ”۔

ہمیں لگا تھا کہ وہاں کوئی خطرناک آدمی ہوگا، لیکن وہاں تو محلے کا سب سے سست اور موٹا بلا “مانو” بیٹھا تھا۔ مانو میاں انکل چٹخارے کی ایک چپل پر سر رکھ کر بڑے مزے سے سو رہے تھے۔ شیلو کتا تو صرف اس کا “اسسٹنٹ” تھا جو چیزیں لا لا کر وہاں جمع کر رہا تھا۔

لیکن اصلی ٹوئسٹ ابھی باقی تھا

جیسے ہی ہم نے وہاں پڑی چیزوں کو ہلایا، تو ایک کونے میں ہمیں انکل چٹخارے کا وہ گمشدہ بٹوا بھی مل گیا جس کی وجہ سے پورے محلے میں طوفان آیا ہوا تھا۔ ہم نے سوچا کہ ہم ہیرو بن جائیں گے اور بٹوا انکل کو دیں گے۔ لیکن جیسے ہی ہم نے بٹوا اٹھایا، اس کے نیچے سے ایک پرچی نکلی جس پر بڑے بڑے حروف میں لکھا تھا

ہم تینوں کی ہنسی نکل گئی۔ تو جناب! چور کتا تھا، باس بلا تھا، اور سب سے بڑا “مجرم” خود انکل چٹخارے تھے جو اپنی مٹھائی کے بل چھپانے کے لیے بٹوے کو غائب کیے بیٹھے تھے۔

ہم نے وہ بٹوا وہیں رکھ دیا اور چپکے سے باہر نکل آئے۔ اگلے دن جب انکل چٹخارے گلی میں سب پر چلا رہے تھے کہ “میرا سامان کون لے جاتا ہے؟”، ہم تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔

کبھی کبھی زندگی میں سسپنس جتنا بڑا لگتا ہے، اس کا حل اتنا ہی مزاحیہ ہوتا ہے۔ اس دن کے بعد سے جب بھی کسی کی چپل غائب ہوتی ہے، لوگ پولیس کو نہیں، بلکہ ہمیں بلاتے ہیں، اور ہم سیدھا اس پرانے ٹوکرے کا رخ کرتے ہیں جہاں مانو بلا اب بھی کسی نئی چپل پر خواب دیکھ رہا ہوتا ہے۔

2 thoughts on “پراسرار “ٹوکرے” کا راز اور غائب ہونے والی چپلیں”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top