وہ گاؤں جہاں اندھیرا بولتا تھا

رات اپنے سیاہ پر پھیلا چکی تھی۔

آسمان پر بادل ایسے جھکے ہوئے تھے جیسے زمین کے کسی راز پر پردہ ڈالنا چاہتے ہوں۔ دور کہیں کتے مسلسل بھونک رہے تھے، مگر ان کی آواز میں بھی ایک عجیب سی کپکپاہٹ تھی، جیسے وہ کسی ان دیکھے خوف کو دیکھ چکے ہوں۔ ہوا جب پرانے پیپل کے درخت سے ٹکراتی تو اس کی سوکھی شاخیں یوں کراہتیں جیسے کوئی بوڑھی عورت اندھیرے میں بیٹھ کر آہستہ آہستہ رو رہی ہو۔

نام نورپور، مگر قسمت میں برسوں سے اندھیرا لکھا جا چکا تھا۔

دن کے وقت یہ گاؤں عام دیہات کی طرح ہی لگتا۔ مٹی کے گھر، کچی گلیاں، کھیت، کنواں، مسجد کی سفید دیواریں اور دروازوں پر بیٹھے لوگ۔ مگر جیسے ہی مغرب کا وقت ہوتا، پورا گاؤں سمٹ کر اپنے گھروں میں بند ہو جاتا۔ بچے رونا شروع کر دیتے، عورتیں دروازوں پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونک مارتیं، مرد مسجد سے جلدی واپس آتے اور ہر طرف ایک ہی جملہ سنائی دیتا

“اندھیرا ہونے سے پہلے اندر آ جاؤ…”

کیونکہ اس گاؤں میں رات صرف رات نہیں تھی۔

وہ ایک عذاب تھی۔

لوگ کہتے تھے کہ برسوں پہلے گاؤں کے کنارے پر موجود پرانی حویلی میں ایک ظالم جاگیردار رہتا تھا۔ اس کے ظلم، اس کی سنگ دلی اور اس کے گناہوں کی داستانیں آج بھی بوڑھوں کی زبان پر زندہ تھیں۔ پھر ایک رات وہ جاگیردار پراسرار طور پر مر گیا، مگر مرنے کے بعد اس کا سایہ ختم نہ ہوا۔ کہتے تھے کہ اس کی روح کسی شیطانی طاقت کے ساتھ جڑ گئی تھی۔ تب سے حویلی ویران ہو گئی، مگر گاؤں ویران ہونے لگا۔

پہلے مویشی غائب ہوئے۔

پھر بچے بیمار ہونے لگے۔

پھر راتوں کو لوگوں نے دروازوں پر دستکیں سننی شروع کیں۔

اور پھر

کچھ لوگ غائب ہو گئے۔

جو باقی بچے، وہ بھی زندہ ضرور تھے، مگر ان کی آنکھوں سے سکون چھن گیا تھا۔


خوف کی راتیں

گاؤں کی ایک بیوہ عورت، سکینہ، ہر رات سونے سے پہلے اپنے دو بچوں کو سینے سے لگا لیتی اور دروازے کے پاس چراغ رکھ دیتی۔ اس کا بڑا بیٹا حمزہ صرف دس برس کا تھا، مگر اتنا سمجھدار کہ ماں کے چہرے پر خوف پڑھ لیتا۔

“امّی، کیا وہ آج پھر آئے گا؟” حمزہ نے کانپتی آواز میں پوچھا۔

سکینہ نے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔ “ایسی بات زبان پر نہیں لاتے۔ بس کلمہ پڑھو۔”

:حمزہ نے آہستہ آہستہ پڑھنا شروع کیا
لا إله إلا الله محمد رسول الله

اسی لمحے دروازے پر تین دھیمی دستکیں ہوئیں۔

ٹھک… ٹھک… ٹھک

سکینہ کے ہاتھ سے چراغ تقریباً گر گیا۔

رات کے اس پہر کون ہو سکتا تھا؟

اس نے ہمت کر کے پوچھا، “کون ہے؟”

باہر سے ایک کمزور سی آواز آئی، “دروازہ کھولو… میں تمہارا شوہر ہوں”

سکینہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

اس کا شوہر تو تین سال پہلے دفن ہو چکا تھا۔

اس نے فوراً بچوں کو پیچھے کیا، بلند آواز میں سورۂ اخلاص پڑھنا شروع کی۔ دروازے کے باہر کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر وہی آواز خوفناک قہقہے میں بدل گئی۔ دروازہ زور زور سے ہلنے لگا، جیسے کوئی باہر سے پنجوں سے نوچ رہا ہو۔

حمزہ چیخ پڑا۔

اور پھر اچانک

مسجد سے فجر سے پہلے اذان کی آواز بلند ہوئی۔

دروازے کی تھرتھراہٹ رک گئی۔

ہوا یکدم خاموش ہو گئی۔

اور گاؤں ایک اور رات بچ گیا۔


مایوسی کے دن

گاؤں کے لوگ ہر جمعے کے بعد جمع ہوتے، دعائیں کرتے، صدقہ دیتے، تعویذ کرواتے، مگر خوف کم نہ ہوتا۔ کچھ کہتے یہ جنات ہیں، کچھ کہتے بددعا ہے، کچھ کہتے حویلی میں شیطان بستے ہیں۔ مگر کسی کے پاس علاج نہ تھا۔

ایک دن گاؤں کے سب سے بوڑھے شخص، بابا کریم، مسجد کے صحن میں بیٹھے تھے۔ ان کی داڑھی برف کی طرح سفید تھی اور آنکھوں میں برسوں کی تھکن۔

:انہوں نے آہ بھری اور کہا “

یہ وقت تعویذوں سے نہیں، ایمان سے لڑنے کا ہے۔ مگر ایمان بھی تب زندہ ہوتا ہے جب کوئی دلیر کھڑا ہو

لوگ خاموش رہے۔

کیونکہ اس گاؤں میں ہر شخص ڈرا ہوا تھا۔
اور ڈرا ہوا انسان حق دیکھ بھی لے، تب بھی قدم نہیں اٹھا پاتا۔


ایک اجنبی کا آنا

اسی شام، جب سورج سرخ انگارے کی طرح ڈوب رہا تھا، گاؤں کی پگڈنڈی پر ایک مسافر داخل ہوا۔

قد لمبا، چہرہ سنجیدہ، آنکھیں پرسکون، لباس سادہ، کندھے پر ایک چھوٹا سا تھیلا۔ اس کے چہرے پر غرور نہیں تھا، مگر عجیب سا اطمینان ضرور تھا۔ وہ ہر قدم ایسے رکھ رہا تھا جیسے اسے راستے کا خوف نہیں۔

لوگ اپنے دروازوں سے جھانکنے لگے۔

“کون ہے یہ؟”
“شاید کوئی درویش ہے”
“نہیں، مسافر لگتا ہے”
“مگر اس وقت؟ مغرب ہونے والی ہے”

وہ سیدھا مسجد کے دروازے پر آ کر رکا۔ وضو کیا۔ خاموشی سے اندر گیا۔ نماز پڑھی۔ پھر ایک ستون کے ساتھ بیٹھ گیا۔

نماز کے بعد امام صاحب نے اس سے پوچھا، “بیٹا، کہاں سے آئے ہو؟”

اس نے ادب سے جواب دیا، “میرا نام سعد ہے۔ میں دور کے شہر سے آیا ہوں۔ سفر میں تھا، رات ہونے لگی، اس لیے یہاں ٹھہرنے کا ارادہ کیا۔”

امام صاحب کے چہرے پر پریشانی آ گئی۔
“رات؟ یہاں؟”

سعد نے غور سے انہیں دیکھا۔ “کیا اس گاؤں میں رات کسی اور کی ملکیت ہے؟”

یہ سن کر امام صاحب نے نظریں جھکا لیں۔
“ملکیت تو صرف اللہ کی ہے… مگر یہاں راتوں میں ایک آزمائش اترتی ہے۔”

پھر آہستہ آہستہ انہوں نے ساری کہانی سنا دی۔

سعد خاموش سنتا رہا۔

نہ وہ ہنسا، نہ گھبرایا، نہ حیران ہوا۔

صرف اتنا بولا:
“اگر خوف نے اس گاؤں کو قید کر رکھا ہے، تو اس کا دروازہ اللہ کے نام سے ہی کھلے گا۔”


پہلی رات

گاؤں والوں نے سعد کو بہت سمجھایا کہ مسجد سے باہر نہ نکلے، مگر وہ نہ مانا۔

اس رات اس نے مسجد ہی میں قیام کیا۔ عشاء کے بعد قرآن کھولا اور تلاوت شروع کر دی۔ باہر ہوا تیز ہونے لگی۔ درختوں کی شاخیں یوں ہل رہی تھیں جیسے کوئی لمبے ہاتھوں والا وجود ان میں الجھ کر رینگ رہا ہو۔

نصف رات گزری تو اچانک مسجد کے صحن میں کسی کے چلنے کی آواز آئی۔

ٹک…۔
ٹک۔۔۔
ٹک…۔

جیسے ننگے پاؤں گیلی زمین پر کوئی آہستہ آہستہ چل رہا ہو۔

امام صاحب کا رنگ پیلا پڑ گیا۔ “یہ… یہ وہی ہے”

سعد نے قرآن بند نہ کیا۔
بس تلاوت بلند کر دی۔

اچانک مسجد کی کھڑکی پر ایک سیاہ سایہ ابھرا۔ پہلے دھندلا، پھر واضح۔ اس کا سر انسان جیسا تھا مگر گردن غیر معمولی لمبی، ہاتھ گھٹنوں سے نیچے تک، اور آنکھیں… انگاروں کی طرح دہکتی ہوئی۔

امام صاحب کے منہ سے بے اختیار نکلا، “استغفراللہ”

سایہ کھڑکی کے شیشے سے چپک گیا۔ اس کے ہونٹ حرکت کر رہے تھے، مگر آواز نہ آ رہی تھی۔ پھر اچانک وہ ہنسنے لگا۔ ایسی ہنسی کہ مسجد کی دیواریں کانپ اٹھیں۔

سعد نے پہلی بار نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔

اور بہت آہستہ کہا
“تو مخلوق ہے۔ خالق نہیں۔”

یہ الفاظ گویا تیر بن کر نکلے۔

سایہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹا۔ فضا میں جلی ہوئی بدبو پھیل گئی۔ باہر سے چیخ جیسی آواز آئی، اور پھر سب خاموش ہو گیا۔

امام صاحب حیران تھے۔
“یہ… یہ پیچھے ہٹ گیا”

سعد نے آہستہ کہا،
“جہاں اللہ کا کلام زندہ ہو، وہاں باطل ٹھہرتا نہیں۔ مگر یہ ختم نہیں ہوا۔ یہ صرف ہمیں پرکھ رہا ہے۔”


حقیقت کی تلاش

اگلے دن سعد نے گاؤں کا چکر لگایا۔ ہر گھر میں خوف تھا، ہر چہرے پر کہانی۔ کسی نے اپنی بیٹی کھوئی تھی، کسی نے بھائی، کسی نے باپ۔ سب کے دکھ الگ تھے، مگر جڑ ایک تھی: حویلی۔

گاؤں کے آخری کنارے پر وہ ویران حویلی اب بھی کھڑی تھی۔ دیواروں پر کائی، ٹوٹے جھروکے، زنگ آلود دروازہ، اور اندر سے آتی ٹھنڈی ہوا جیسے قبر سانس لے رہی ہو۔

بابا کریم نے سعد کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“بیٹا، وہاں دن میں بھی جانا اچھا نہیں۔ بہت لوگ گئے، واپس نہیں آئے۔”

سعد نے نرمی سے ان کا ہاتھ دبایا۔
“بابا، کبھی کبھی اندھیرے کے پیٹ میں اترنا پڑتا ہے، تاکہ روشنی کا راستہ ملے۔”

وہ حویلی کے اندر داخل ہوا۔

اندر ہر چیز بوسیدہ تھی، مگر فضا میں ایک عجیب بوجھ تھا۔ جیسے دیواریں صرف اینٹ اور گارے کی نہیں، آہوں اور گناہوں کی بھی بنی ہوں۔ ایک کمرے میں پرانا آئینہ پڑا تھا، مگر اس میں عکس ٹیڑھا دکھائی دیتا۔ دوسرے کمرے میں سوکھی زنجیریں لٹک رہی تھیں۔ تہہ خانے کی سیڑھیوں کے قریب پہنچا تو ہوا یخ ہو گئی۔

سعد نے دل میں دعا پڑھی اور نیچے اتر گیا۔

تہہ خانے میں زمین پر عجیب نشانات تھے۔ کچھ پرانے، کچھ نسبتاً نئے۔ اور درمیان میں ایک کالا دائرہ بنا ہوا تھا۔ اس کے اندر راکھ، ہڈیاں اور ایک پرانا تعویذ پڑا تھا، جس پر قرآنی آیات کی بے حرمتی کی گئی تھی۔

سعد کی آنکھوں میں سختی آ گئی۔

“یہ صرف بھٹکی ہوئی روح یا عام جن کا معاملہ نہیں… یہاں کسی نے شر کو دعوت دی تھی”

:تبھی پیچھے سے ایک سرگوشی ہوئی

“واپس چلا جا”

سعد پلٹا۔
وہاں کوئی نہ تھا۔

پھر آواز قریب آئی۔
“یہ گاؤں ہمارا ہے…”

اسی لمحے تہہ خانے کی دیوار سے خون کی ایک لکیر بہتی دکھائی دی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری۔

اور پھر دیوار پر لفظ ابھرے

چلے جاؤ

مگر سعد کے ہونٹوں پر صرف یہ تھا
حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ

لفظ نمودار ہوئے، لرزے… اور مٹ گئے۔


خوف کا حملہ

اس رات گاؤں پر عذاب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نازل ہوا۔

ہر گھر میں شور سنائی دینے لگا۔ کہیں چھت پر دوڑتے قدم، کہیں کھڑکی پر نوچنے کی آواز، کہیں عورتوں جیسی چیخیں، کہیں بچوں کے رونے کی بازگشت۔ کئی گھروں میں لوگوں نے دیکھا کہ دیواروں پر سائے رینگ رہے ہیں۔

سکینہ کے گھر میں پھر دستک ہوئی۔

مگر اس بار آواز اس کے مرحوم شوہر کی نہیں تھی۔

اس بار آواز حمزہ کی تھی۔

“امّی… دروازہ کھولیں… مجھے باہر کوئی لے گیا ہے”

سکینہ چیخ کر پیچھے ہٹ گئی، کیونکہ حمزہ تو اس کی گود میں سو رہا تھا۔

گاؤں والے گھبرا کر مسجد کی طرف بھاگے۔

سعد پہلے سے وہاں موجود تھا۔
اس نے سب کو جمع کیا اور کہا،
“آج رات کوئی اکیلا نہیں رہے گا۔ سب مل کر اللہ کو پکاریں گے۔ خوف کو تنہائی پسند ہے، ایمان کو جماعت۔”

پھر اس نے سب کو ذکر، دعا اور تلاوت میں لگا دیا۔
بچے ماؤں سے لپٹے ہوئے تھے۔
بوڑھے روتے ہوئے دعائیں مانگ رہے تھے۔
مردوں کی آوازیں کانپ رہی تھیں، مگر زبان پر اللہ کا نام تھا۔

اچانک مسجد کے باہر ایسی دھاڑ سنائی دی کہ زمین ہل گئی۔

دروازہ خود بخود کھل گیا۔

…اور وہاں
وہی سایہ کھڑا تھا۔

مگر اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔
اس کے پیچھے دھند کی شکل میں کئی اور سائے بھی تھے۔

لوگ چیخنے لگے۔
کچھ بے ہوش ہو گئے۔
امام صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

سعد آگے بڑھا۔

اس کے ہاتھ میں نہ تلوار تھی، نہ بندوق، نہ دنیاوی ہتھیار۔

صرف قرآن تھا۔
اور یقین۔

اس نے بلند آواز میں سورۂ بقرہ کی آیات پڑھنا شروع کیں۔

فضا تھر تھرا اٹھی۔

سایہ چیخا۔ اس کی چیخ انسان کی نہ تھی، جانور کی بھی نہ تھی۔ جیسے کئی مردہ آوازیں ایک ساتھ درد سے پھٹ گئی ہوں۔ اس نے مسجد کے دروازے کی دہلیز پار کرنے کی کوشش کی، مگر ہر بار ایک نادیدہ قوت اسے پیچھے دھکیل دیتی۔

:سعد نے بلند آواز میں کہا
“تو اللہ کے بندوں کو ڈرا کر حکمرانی کرتا رہا۔ آج اللہ کے حکم سے تیرا غرور ٹوٹے گا”

سایہ غصے سے بپھر اٹھا۔ اس نے دھند کے لشکر کو آگے بڑھایا۔ مسجد کی کھڑکیاں ٹوٹنے لگیں۔ چراغ بجھ گئے۔ عورتوں کی چیخیں بلند ہوئیں۔ بچے رونے لگے۔ اندھیرا یوں بڑھا جیسے پوری دنیا کو نگل جائے گا۔

مگر اسی اندھیرے میں سعد کی آواز گونجی
اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ

آیت الکرسی کی تلاوت شروع ہوئی۔

جیسے ہی الفاظ فضا میں بلند ہوئے، سائے مڑوڑ کھانے لگے۔ جو کھڑکی کے پاس تھے، راکھ بن کر بکھرنے لگے۔ جو دروازے پر تھے، چیخ کر پیچھے ہٹ گئے۔ بڑا سایہ تڑپ کر زمین پر گرا، پھر سانپ کی طرح بل کھا کر حویلی کی سمت بھاگا۔

سعد نے فوراً کہا
“یہ اپنی اصل پناہ گاہ کی طرف جا رہا ہے۔ آج فیصلہ وہیں ہوگا”


آخری مقابلہ

رات کا آخری پہر تھا۔

چاند بادلوں کے پیچھے کہیں گم ہو چکا تھا۔

سعد، امام صاحب، بابا کریم اور چند ہمت والے نوجوان حویلی کی طرف بڑھے۔ باقی گاؤں والے مسجد میں دعا کرتے رہے۔

حویلی کا دروازہ خود بخود کھل گیا۔

اندر ہر طرف گھپ اندھیرا تھا۔
مگر آج پہلی بار، خوف کے ساتھ امید بھی تھی۔

وہ تہہ خانے تک پہنچے۔ جیسے ہی نیچے اترے، زمین ہلنے لگی۔ دیواروں سے کراہیں اٹھیں۔ اور پھر کالے دائرے کے درمیان سے وہی ہولناک سایہ نمودار ہوا، مگر اب اس کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔

وہ انسان اور درندے کے درمیان کوئی چیز تھا۔

اس کی آنکھیں آگ، منہ سے سیاہ دھواں، اور آواز یوں جیسے کنویں کی گہرائی سے کوئی مردہ بول رہا ہو۔

ایک نوجوان ڈر کر پیچھے ہٹ گیا، مگر سعد نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔
“جو اللہ پر توکل کرے، اس کے لیے وہ کافی ہے۔”

سایہ ہنسا۔
“توکل؟ تم نے میرے سایوں کے خوف کو نہیں دیکھا”

سعد کی آواز مضبوط تھی۔
“میں نے خوف دیکھا ہے۔ ہر اس ماں کی آنکھ میں، جس نے اپنے بچے کو سینے سے لگا کر رات گزاری۔ ہر اس باپ کے دل میں، جو اپنے گھر کی دہلیز پر کانپتا رہا۔ ہر اس بچے کی چیخ میں، جس نے اندھیرے کو زندہ دیکھا۔ مگر میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب بندہ سچے دل سے اللہ کو پکارے، تو سب سے بڑا اندھیرا بھی ٹوٹ جاتا ہے۔”

سایہ دیوانہ وار حملہ آور ہوا۔

ہوا کا ایک زبردست جھونکا آیا، چراغ بجھ گئے، نوجوان دیواروں سے جا ٹکرائے، امام صاحب زمین پر گر پڑے۔ بابا کریم کی ٹوپی دور جا گری۔ تہہ خانے میں چیخیں اور دھماکے گونجنے لگے۔

سعد کا جسم بھی ایک طرف لڑکھڑایا، ماتھے سے خون بہنے لگا۔
مگر اس کی زبان نہ رکی۔

جیسے ہی یہ آیت نکلی، سائے نے ایک دل دہلا دینے والی چیخ ماری۔

اس کے جسم سے دھواں اٹھنے لگا۔

وہ تڑپتا ہوا دائرے میں واپس جانے لگا، مگر سعد نے آگے بڑھ کر زمین پر پڑا وہ ناپاک تعویذ اٹھایا، زور سے توڑا اور آگ میں پھینک دیا۔

دیواریں پھٹنے لگیں۔

اوپر سے مٹی گرنے لگی۔

سایہ غصے، درد اور شکست سے پاگل ہو گیا۔ اس نے آخری بار جھپٹ کر سعد کا گلا پکڑنے کی کوشش کی، مگر سعد نے بند آنکھوں سے صرف اتنا کہا

“اے اللہ! اگر میرے اندر کچھ طاقت ہے تو وہ تیری عطا ہے۔ اگر آج یہ شر ختم ہو تو صرف تیرے حکم سے ہو”

اگلے ہی لمحے تہہ خانے میں زوردار روشنی پھوٹی۔

ایسی روشنی جو آنکھوں سے نہیں، دل سے محسوس ہوتی ہے۔

سایہ آگ کے ستون کی طرح بلند ہوا، پھر ہزاروں چیخوں میں بکھر گیا۔

اور پھر۔۔۔//

خاموشی۔

ایسی خاموشی جو سالوں بعد نورپور میں اتر رہی تھی۔


صبح کا نور

جب فجر ہوئی تو گاؤں والوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔

پرانے پیپل کے درخت پر بیٹھے کوے اڑ چکے تھے۔
ہوا میں بدبو نہیں تھی۔
بچوں کے چہروں پر پہلی بار سکون تھا۔
اور حویلی…

سعد تھکا ہوا، زخمی حالت میں مسجد کے صحن میں بیٹھا تھا۔ اس کے ماتھے پر پٹی بندھی تھی۔ حمزہ دوڑ کر اس کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ چومنے لگا۔

“آپ نے ہمیں بچا لیا!”

سعد نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“نہیں بیٹا۔ بچانے والا صرف اللہ ہے۔ بندہ تو صرف سبب بنتا ہے۔”

سکینہ رو رہی تھی۔
امام صاحب کی آنکھوں میں شکر کے آنسو تھے۔
بابا کریم نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا،
“آخرکار نورپور میں نور لوٹ آیا…”

گاؤں والوں نے سعد کو روکنا چاہا، اسے اپنا رہبر بنانا چاہا، مگر اس نے انکار کر دیا۔

“میرا کام یہاں ختم ہوا۔ مگر یاد رکھنا، شر صرف حویلیوں میں نہیں رہتا۔ کبھی خوف بن کر دلوں میں بھی گھر کر لیتا ہے۔ جب تم نماز چھوڑ دو، ذکر چھوڑ دو، قرآن سے دور ہو جاؤ، تو اندھیرے واپس آنے لگتے ہیں۔ اپنے گھروں کو اللہ کے نام سے آباد رکھنا۔”

یہ کہہ کر وہ چل دیا۔

لوگ دیر تک اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ دھند میں گم ہو گیا۔


مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی

نورپور میں اس کے بعد کبھی وہی عذاب واپس نہ آیا۔

رات اب بھی ہوتی تھی۔
ہوا اب بھی چلتی تھی۔
پیپل کا درخت اب بھی کھڑا تھا۔

لوگ کہتے تھے کہ کبھی کبھی فجر سے پہلے مسجد کے صحن میں ایک اجنبی مسافر کی سی خوشبو محسوس ہوتی ہے، جیسے کوئی خاموشی سے آ کر دیکھ گیا ہو کہ گاؤں اب بھی اللہ کے نام سے زندہ ہے یا نہیں۔

:اور بابا کریم اکثر بچوں کو بٹھا کر کہتے

“یاد رکھو، بہادری یہ نہیں کہ انسان ڈرے ہی نہ
بہادری یہ ہے کہ خوف کے باوجود حق پر کھڑا رہے۔
اور ایمان یہ نہیں کہ آسانی میں اللہ کو یاد کرو…
ایمان یہ ہے کہ اندھیرے کے بیچ بھی دل کہے
میرا رب میرے ساتھ ہے۔”

پھر بچے خاموش ہو جاتے۔

کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نورپور کی سب سے بڑی کہانی کسی ایک ہیرو کی نہیں تھی۔


Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top